منتظم اعلی محمود احمد خان و کنوینئر فرحان الرحمن کی سربراہی میں ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرہ کمیٹی کا اجلاس۔

0
158

کراچی (رپورٹ – محمد رضوان) گزشتہ روز یونین کلب میں منتظم اعلی محمود احمد خان و کنوینئر فرحان الرحمن کی سربراہی میں ساکنان شہر قائد کی عالمی مشاعرہ کمیٹی کا اجلاس منقعد ہوا۔جس میں جمال اظہر و انجینئر تنویر احمد بھی امور انتظام میں پیش پیش تھے۔تقریب کی نظامت محمود احمد خان نے کی۔تلاوت قرآن پاک اقبال علی خان نے کی۔ صدارت محمود شام نے کی جبکہ ڈاکٹر ہما بخاری، ریحانہ روحی، ڈاکٹراوج کمال،حنیف عابد، وجہی ثانی، اعجاز احمد فاروقی،ظہور اسلام جاوید اور عبد الحفیظ نے تقریب سے خطاب کیا۔صدر اجلاس محمود شام نے کہا کہ دونسلوں کے درمیان کلام کا نام ہی مشاعرہ ہے اور نسلوں کا سنگم قرار دیا مزید کہا کہ ماضی میں قومی دنوں میں بھی مشاعرے منقعد ہوتے تھے اور شہری جوک در جوک شریک ہوتے تھے۔مشاعرے کو اردو کی ترقی کا سبب قرار دیا۔بانی رکن ساکنان شہر قائد اعجاز احمد فاروقی نے کہا کہ منتظم اعلی محمود احمد خان و کنوینئر فرحان الرحمن نے ہر حالات میں کام کرتے رہے ہیں۔اطہر ہاشمی آج بہت یاد ارہا ہے۔ مشاعرے کی خوبصورتی یہ ہے کہ شاعر سب کی ایف آئی آر کاٹ رہا ہوتا ہے جو معاشرے میں پتہ نہیں چلتا ہے۔ظیور اسلام جاوید نے اپنے چار اشعار کے بعد کہا کہ مجھ کو معاشرے اور مشاعرے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا پھر انھوں نے داغ صاحب کا ایک شعر پڑھا جو مشاعرے ھو معاشرے کی عکاسی کرتا تھا۔ اردو زبان کے فروغ کے لئے اردو مشاعرے نے اہم کردار ادا کیا۔ مزید کہا کہ شاعری میں احساسات کی ترجمانی یوتی ہیں۔ڈاکٹر ہما بخاری نے کہا کہ اس مشاعرے میں شریک افراد ایک روایات کو پورا کررہے ہوتے ہیں۔ان کے لئے میری جانب سے نیک تمنائیں کیونکہ دنیا کو اس کی ضرورت ہوتی ہیں۔ڈاکٹر اوج کمال نے کہا کہ ساکنان قائد کے مشاعرے پر تحقیق ہونا چاہیے۔ سامعین کے لئے یہ مشاعرہ میں کئی مفکروں کی باتیں زہین نشین کرنا چاہیے۔سامعین مشاعرے میں آئیں گئے تو مشاعرے کی روایات برقرار رہے گئ۔ یہ مشاعرہ ہے ٹک ٹاکر نہیں ہے۔عبدالحفیظ نے پراثر و بہترین اردو تلفظ میں خطاب کیا کرتے ہوتے ہوئے ساکنان قائد کے کاموں کو لاجواب قرار دیا۔ریحانہ روحی نے بھی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے یوئے ساکنان قائد کے منقعدہ مشاعرے کو اردو کی اساس قرار دیا۔ منتظم اعلی محمود احمد خان نے ماضی میں ہونے عالمی مشاعروں کی یادیں بیان کی اور اطیر ہاشمی کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا اور انکی کمی شدد سے محسوس کی اور کہا کہ ہمیشہ ان کو دعاوں میں یاد رکھے۔ آئندہ منقعد ہونے والے عالمی مشاعرے کی مختصر تفصیلات بیان کی۔آخر میں کنوینئر فرحان الرحمن نے اجلاس میں اہم امور پر باتیں کی اور اس مشاعرے کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور خود بھی اردو کی اہمیت اور مشاعرے یونے سے پیدا ہونے ماحول کو اردو کی ترقی قرار دیا۔ عالمی مشاعرے میں شعراء کرام کی کثیر تعداد میں شرکت کرنے کو باعث اطمینان قلب قرار دیا اور شہر قائد کی ایک درخشندہ روایت عالمی مشاعرہ بھی ہے جو اس سال بھی ساکنان شہر قائد کے تحت ان شااللہ 23 مارچ کو ایکسپو سینٹر میں ہوگا جس میں دنیا بھر سے مشہور شعراء شرکت کرکے اپنا کلام پیش کریں گے۔ مشاعرے کی تیاریوں سے آگاہی کیلئے 22/2/22 کو کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے ساکنان شہر قائد کے روح رواں ممتاز شاعر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور منتظم اعلی محمود احمد خان پریس کانفرنس سے خطاب کریں گئے۔ اس اجلاس کے آخر میں کنوینئر فرحان الرحمن نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اور گروپ تصاویر بنوائی گئ اور ہائی ٹی پیش کی گئ۔اجلاس میں کثیر تعدار میں اردو سے محبت رکھنے والے و شاعری کا ذوق و شوق رکھنے والوں کے علاوہ مشاعرے کے سامعین نے بھی شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here